ارض فلسطین پھر لہو لہو ہے۔۔۔

ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے آپ ایک اپنے ایک جیسے تیسے گھر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔ اور ایک دن آپ کو خبر ہوتی ہے کہ یہ مکان جو آپ نے نہ جانے کیسے اپنی خون پسینے کی کمائی سے خریدا تھا، وہ آپ کے لیے ’’غیرقانونی‘‘ ہے، کیوں کہ اب اسے دنیا کے کسی دوسرے ملک سے آنے والے یہودی کو دے دیا گیا ہے، تو آپ پر کیا گزرے گی۔۔۔؟

یہ ہے مقبوضہ فلسطینی باشندوں کے طویل المیے کا مختصر خلاصہ۔

عالمی سطح پر دیکھیے تو مسلمان دنیا میں پہلے بہ یک وقت کئی صدائیں تھیں، جو اب موجود نہیں۔ سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سعود نے بطور ولی عہد اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے یہ تجویز دی تھی کہ اگر اسرائیل 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلا جائے تو مسلمان ممالک اِسے تسلیم کرلیں گے۔

ایعنی ’سعودی امن فارمولا‘ دوسرے الفاظ میں صرف یہ کہہ رہا تھا کہ قبلہ اول مسجداقصیٰ کو فلسطینی ریاست کا حصہ بنا دیا جائے، تو تمام مسلمان ممالک اسرائیلی ریاست سے سفارتی تعلقات کا آغاز کردیں گے۔ یہ پہلی بار مسلمان دنیا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ایک باضابطہ پیش کش تھی۔

اس تجویز پر اگرچہ تب بھی بھی اچھا خاصا ردعمل پیدا ہوا تھا کہ اسرائیل تو سرے سے ہی ایک قابض اور ناجائز ریاست ہے، اسے ہم کسی بھی شرط پر کیوں کر قبول کر سکتے ہیں۔ اسے تو ہر صورت میں 1967ء کے بہ جائے 1948ء سے پہلے کی حالت پر واپس جانا چاہیے، کہ جب یہ پورا خطہ آزاد فلسطین کہلاتا تھا۔ لیکن ’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔۔۔!‘

اب زوال کمال کا فیصلہ تو آپ خود کیجیے کہ قابض اسرائیلی ریاست نے نہ صرف مقبوضہ بیت المقدس کو باقاعدہ اپنا دارالحکومت بنا دیا، بلکہ اس تشویش ناک قابض منصوبے پر عمل درآمد کے کچھ ہی عرصے بعد 2020ء میں ’برادر اسلامی ملک‘ اور مقامات مقدسہ کے ’خادمین‘ کے قریبی اتحادی ’متحدہ عرب امارات‘ اور بحرین نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرکے سفارتی تعلقات بھی قائم کرلیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ دونوں ممالک عالمی فورم پر ہر معاملے پر سعودی عرب ہی کے موقف کے حامی اور ہم خیال ہوتے ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں کا مسئلہ ہو یا شام کی خانہ جنگی، یا اپنے ہی درمیان برادر عرب مسلمان ملک قطر کا حقہ پانی بند کرنے کا فیصلہ ہو، ان ممالک نے ہمیشہ ہی مشترکہ لائحہ عمل اپنایا ہے، اس لیے یہ واضح تھا کہ اسرائیل کے معاملے پر بھی انھیں سعودی عرب کی خاموش تائید و حمایت حاصل ہے۔ اور اس کے بعد تو سب دیکھ ہی رہے ہیں کہ خود سعودی عرب کی اسرائیل سے قربتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں اور باقاعدہ (اقوام متحدہ کے چھپر تلے ہی سہی) اسرائیلی وفود پہلی بار سعودی عرب میں منعقدہ بین الاقوامی پروگراموں میں شامل بھی ہوا ہے۔ اور سات اکتوبر 2023ء کو فلسطینی حریت پسند تنظیم ’حماس‘ کی اسرائیل پر کارروائی سے قبل ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے اب بہت جلد ہی باقاعدہ طور پر سعودیہ کی جانب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ کیوں کہ اس دوران اسرائیلی حکام نے بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر ایسے دعوے کیے تھے کہ انھیں کوئی اہم اسلامی ملک تسلیم کرنے والا ہے، سعودیہ نے اس حوالے سے کوئی تردید بھی جاری نہیں کی تھی۔ جس سے شکوک نے اور زیادہ تقویت پکڑی تھی۔

دوسری جانب عالم اسلام میں اس تمام صورت حال کے باعث شدید بے چینی اور مایوسی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ مسلمان ممالک کم زور سہی، لیکن فلسطینی عوام اور اپنے اجتماعی مقدس مقام بیت المقدس کے تحفظ اور اس کی آزادی کے لیے زبانی کلامی ہی سہی، لیکن یک جا اور بہت زیادہ واضح رہتے تھے۔

کبھی کوئی مسلمان راہ نما آواز بلند کرکے فرض کفایہ ادا کر دیتا تھا تو کبھی اور کوئی مسلمان حکم راں یہ کام کر دیتا تھا اور پھر سارے چھوٹے سے چھوٹے مسلمان ممالک بھی گویا اس صدا سے آواز ملا دیتے تھے اور پچاس برسوں سے اپنی کئی کئی نسلیں لٹا دینے والے صبح وشام بم وبارود میں سانس لینے والے فلسطینیوں کی کچھ ڈھارس بن جاتی تھی کہ مسلم امہ کم زور یا زبانی کلامی ہی سہی، لیکن ان کی پشت پر تو موجود ہے۔ تب بھی بہترین صورت حال تو نہیں تھی، لیکن کم از کم انھیں یہ اعتماد تھا کہ ان کے آنسو پونچھنے اور ان کے لیے احتجاج کرنے والے مذہبی بھائی تو دنیا بھر میں موجود ہیں۔

زوال تو تب بھی تھا، لیکن فلسطین کے نام سے وفا کرنے اور ببانگ دہل اس کے لیے بات کرنے والے تو ہم میں ہی موجود ہوتے تھے۔۔۔ اب آج دیکھیے تو اکا دُکا مسلمان ملک ہی اپنی اس روایت کو نبھا سکے ہیں۔ سعودی عرب میں تو اب خیر سبھی کچھ بدلتا جا رہا ہے، اس کا کیا شکوہ کیجیے اور پاکستان کے معاشی حالت خود دگرگوں ہے، مہاتیر محمد کے بعد ملائیشیا عالمی کردار سے پس منظر میں چلا گیا، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ترکی بھی شاید کچھ مصلحتوں کا شکار ہے۔

لیبیا کے کرنل معمر قذافی بھی اب موجود نہیں، ایران میں بھی محمود احمدی نژاد جیسی شخصیت تو نہیں، لیکن اس کے باوجود تہران کی آواز آج بھی نمایاں ہے، ایسے ہی قطر نے بھی فلسطینیوں کے لیے بساط بھر بات کی ہے، تباہ حال افغانستان نے دو ٹوک انداز میں فلسطینی مظلوموں کا ساتھ دینے کا قصد کیا ہے۔

باقی آپ عراقی صدر صدام حسین کے سخت گیر کردار کے باوجود فلسطین کے لیے ان کی لگن سے انکار نہیں کر سکتے، کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آخر میں عالمی برادری کے لیے سارے سمجھوتوں پر تیار ہونے کے باوجود انھیں ٹھکانے اسی لیے لگایا گیا کہ ان کی موجودگی میں اسرائیل بہت ’بے سکون‘ رہتا۔۔۔ اور تو اور فلسطین کے مسئلے کو دنیا بھر میں دوڑتے پھرتے اجاگر کرنے والے ماضی کے حریت پسند اور بعد میں غیر مسلح جدوجہد کرنے والے فلسطینی انتظامیہ کے صدر یاسر عرفات کا ایک خلا بھی تو آج موجود ہے۔

ناقدین انھیں بھی ’امریکی آلہ کار‘ اور فلسطینی مقدمے کو کم زور کرنے والا قرار دیتے ہیں، لیکن اُس ’بوڑھے‘ میں جب تک دَم تھا، وہ دنیا بھر میں ’دو ریاستی حل‘ کے واسطے راہ ضرور ہموار کرتا رہتا تھا اور عالمی برادری کو ’خانہ پری‘ کے لیے ہی سہی، اس بات کو ماننا بھی پڑتا تھا کہ فلسطینی مسئلے کا حل اسرائیل کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔ وہ فلسطینی ریاست جو اسرائیل کے قیام اور عرب اسرائیل جنگوں کے بعد سے سکڑتے سکڑتے اب دو الگ الگ حصوں ’غزہ‘ اور ’مغربی کنارے‘ تک محدود ہو چکی ہے!

لاکھوں فلسطینی دنیا بھر میں بے دخل ہیں اور مسلسل اپنے ہی وطن میں ’بے وطن‘ کیے جا رہے ہیں۔۔۔ اب یہاں ’حماس‘ کے میزائل حملوں میں ’بے گناہوں‘ کے متاثر ہونے کی بات کی جاتی ہے۔ تو جناب، اب تو اس پر ہنسی آتی ہے کہ ایک ملک میں دنیا بھر سے لوگ لا کر بسائے جائیں اور مقامی فلسطینیوں کو دیس نکالا دے دیا جائے اور سارے ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جائیں۔

آج کی دنیا کا کوئی اصول، کوئی ضابطہ وہاں لاگو نہ ہوتا ہو۔۔۔ یہاں تک کہ نہ جنگوں کے طور طریقوں کی کوئی پاس داری ہو۔ بلکہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا وحشت ناک اصول ڈنکے کی چوٹ پر چلتا ہو۔ اب ہم وہاں کب تک مظلوم اور مجبور اور ہر لمحہ موت اور خوف میں زندگی کرنے والے فلسطینیوں کو ’’انسانیت‘‘ اور ’’اصولوں‘‘ کے بھاشن دے سکتے ہیں۔۔۔؟ انسان کی نفسیات ہے کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد!

خوف کی انتہا بھی لوگوں کو ’بہادر‘ بنا دیتی ہے، پھر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اُنھیں ایسے ہی قابض اسرائیلیوں کے ہاتھوں ہی اپنی جان ہی دینی ہے، تو وہ کیوں نہ اپنے وطن کی آزادی اور دفاع کے واسطے ایک بھرپور مزاحمت اختیار کر لے۔

بتائیے، آپ کیسے یہاں کسی اصول اور کسی قاعدے کی پائمالی کا راگ الاپ سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ معذوروں، بچوں اور خواتین اور جو میدان جنگ میں نہ ہوں ، انھیں نشانہ بنانا بالکل درست نہیں، لیکن جو لوگ فلسطینیوں کو گھروں سے نکال کر مسلسل ان کے گھروں اور زمینوں پر آکر قابض ہو رہے ہیں، ان کے خلاف فلسطینیوں کا غیظ وغضب اور ردعمل کب تک اور کہاں تک روکا جا سکتا ہے؟

ایک نقطۂ نظر یہ بھی دیا جاتا ہے کہ ماضی میں خود فلسطینیوں نے اپنی زمین غیرمقامی یہودیوں کو فروخت کر کے ہی اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی، چلیے اگر یہ ’عذر‘ مان بھی لیا جائے، تو اس کے بعد سے جو فلسطینی بستیوں پر قبضے اور ہم سائے عرب ممالک تک بڑھتی ہوئی اسرائیل کی سرحدیں جو ہیں، وہ آج کی جدید دنیا کے کون سے اصول اور ضابطوں کے مطابق ہیں؟ آخر کیوں اسرائیل ریاست پورا فلسطین نگل چکی ہے؟

آخر یہ کون سا دستور ہے کہ آپ نہ صرف ساری دنیا کے یہودی لا کر وہاں ایک ناجائز ریاست قائم کریں، بلکہ اس کے بعد اسے پھیلاتے بھی چلے جائیں؟ آج امریکا، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اور بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں ریاستی سرحدوں کی حرمت کو کس قدر مقدس بنا کر پیش کرتی ہیں، لیکن اسرائیل کی دہشت گردانہ توسیع پسندی کے سامنے کوئی اصول اور قانون پیش نہیں کیا جاتا۔ اس ساری صورت حال میں ’حماس‘ کو مورودِالزام ٹھیرانا کہ دراصل فلسطینی مجاہدین کے حملوں کے سبب وہاں کا سارا ’امن‘ خراب ہوا ہے، نہایت شرم ناک امر ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ساری دنیا گویا ایک عالم خواب میں تھی، مقبوضہ فلسطینی زمین لہو لہو رہتی، معصوم جانیں ضایع ہوتی رہتیں، فلسطین کی خواتین اور بزرگوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا، دنیا اپنی ڈگر پر اسی طرح چلتی رہتی۔۔۔ جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ طاقت کے قانون کی پروردہ ’اقوام متحدہ‘ مسئلہ کشمیر کی طرح فلسطین کے مسئلے پر بھی سوائے اسرائیلی مفادات کی تکمیل کے کوئی کردار ادا نہ کرسکی، اور تو اور بے کس فلسطینیوں پر تاریخ کا اتنا برا وقت آن پڑا ہے کہ پہلی بار ان کے لیے امت مسلمہ سے کوئی بھرپور، ٹھوس اور واضح موقف سامنے نہیں آسکا ہے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا کہ وہ اپنے اپنے مفادات کے واسطے الٹا ’حماس‘ ہی کی مذمت کر ڈالیں اور غزہ پر اسرائیلی بربریت کی حمایت کر دیں، لگتا بھی ایسا ہے کہ اسرائیلی حکم رانوں سے اپنے اپنے ’معاملات‘ طے کرنے والوں کو فلسطینی حملوں کے نتیجے میں شدید ’دھچکا‘ پہنچا ہے۔

یہ تو انھیں عوامی ردعمل کا خوف ہے، جو انھیں اس پست اظہار سے روکے ہوئے ہے۔ اس مایوس کن صورت حال میں یہ بڑا مشکل ہے کہ آپ اب بھی فلسطینی مزاحمت کاروں ہی کو نام نہاد اصولوں کی پاس داری کا طعنہ دیں۔

اس سے بہتر ہے کہ مسلم امت کی غفلت، انتشار اور بے گانگی کا نوحہ کہیں کہ شاید یہ المیہ قابض اسرائیلی حملوں سے بھی کہیں زیادہ ہے، کیوں کہ اسرائیلی جبر اور دہشت گردی نئی نہیں۔ فلسطینی بھائیوں کے لیے مسلمان دنیا کے بدلے ہوئے تیور اور ماضی کے برعکس دوٹوک موقف سے پس پائی ایک نہایت شرم ناک و تکلیف دہ حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *