دو شہروں کی کہانی۔۔۔چارلس ڈکنس کے مشہور انگریزی ناول کا خلاصہ

چارلس ڈکنس7/فروری 1812ء کو انگلینڈ کے پورٹسی (ہیمپشائر) نامی مقام میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محکمہ جہاز رانی میں ایک معمولی کلرک تھے۔ اس لئے غریبی کیا ہوتی ہے اس کا تجربہ آپ کو بچپن میں ہی ہو گیا۔ اور پھر جب مقروض ہونے کی وجہ سے آپ کے والد کو جیل بھیج دیا گیا تو آپ کو روزی کمانے کے لئے ایک کارخانہ میں کام کرنا پڑا۔ اسی دوران میں آپ نے شارٹ ہینڈ سیکھا اور لندن کے ایک اخبار کے نامہ نگار بن گئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد افسانہ نگاری کے میدان میں اتر آئے اور جلد ہی بحیثیت افسانہ نگار شہرت حاصل کر لی اور پھر کام کی زیادتی کی وجہ سے آپ روز بروز نحیف ہوتے چلے گئے اور 9/جون 1870ء کو محض 58 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہو گیا۔

“دو شہروں کی کہانی” آپ کا بہترین اور مقبول ترین ناول ہے جو پہلی بار 1859ء میں شائع ہوا تھا۔

دو شہروں کی کہانی : چارلس ڈکنس

یسوع مسیح کے بعد 1775ء برس گزر چکے تھے۔ اونچے طبقے کے لوگ جو کہ لوگوں کی روٹی روزی کے مالک تھے۔ دل ہی دل میں سمجھ گئے تھے کہ آئندہ سب کچھ جوں کا توں چلنے والا نہیں ہے۔ حالات میں اہم تبدیلی آنے والی تھی کیوں کہ چاروں طرف بے اطمینانی کی چنگاریاں سلگنے لگی تھیں۔

مسٹر جاردس لوری لندن کے ٹیلسن اینڈ کمپنی نامی بینک کے ایک افسر تھے۔ نومبر کی سرد رات میں وہ ایک گھوڑا گاڑی میں ڈور کی سڑک پر چلے جارہے تھے ان کی نظروں کے سامنے باربار ایک پینتالیس سالہ شخص کا مدقوق چہرہ گھوم جاتا تھا۔اور وہ سوچ رہے تھے کہ اس شخص کی موت کب واقع ہوئی ہوگی ؟ کیا اٹھارہ برس پہلے ؟ یا وہ ابھی تک زندہ ہوگا؟ لیکن وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

ڈوور پہنچے پر وہ ایک دبلی پتلی، سنہرے بالوں والی سولہ سترہ برس کی لڑکی سے ملے۔ مسٹر لوی نے اسے بتایا کہ اس کے والد کا نام ڈاکٹر سینٹ تھا۔ وہ ایک فرانسیسی ڈاکٹر تھے، اور ابھی تک زندہ تھے۔ دراصل اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کے والد کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اور یہ کام اتنے پر اسرار طریقے سے ہوا تھا کہ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔ لڑکی کا نام لوسی تھا۔ لوسی کی ماں نے یہ سوچ کر کہ لڑکی کا دل ٹوٹ نہ جائے، اسے یہی بتایا تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ اور اب جب کہ اس کی ماں بھی مرچکی تھی۔ بینک میں ڈاکٹر مینٹ کی جمع شدہ رقم کی مالک لوسی تھی۔ ادھر ڈاکٹر مینٹ بھی جیل سے رہا ہوچکے تھے۔ اور اب مسٹر لوری مس لوسی کو پیرس لے جانا چاہتے تھے ، جہاں ڈاکٹر سینٹ اپنے خاندان کے ایک پرانے ملازم کے گھر میں مقیم تھے۔

علاقہ سینت انطوئنے میں دخارج نامی ایک شخص کی شراب کی دکان تھی۔ اس کی بیوی بڑی خوفناک عورت تھی۔ ڈاکٹر مینٹ ان دنوں اسی دکان کے قریب کے ایک مکان میں رہ رہے تھے اور ذہنی طور پر ایک طرح سے ماؤف ہوچکے تھے۔ جو شخص بھی ان سے کوئی بات کرتا تھا ، وہ خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگتے اور اکثر و بیشتر جوتے سینے کا کام کرتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر ینٹ کو اس حالت میں دیکھ کر لوسی کو بے حد افسوس ہوا۔ پھر لوسی اور مسٹر لوری نے آپس میں مشورہ کر کے طے کیا کہ بوڑھے مینٹ کے رہنے کے لئے لندن سب سے زیادہ موزوں جگہ رہے گی اور وہ انہیں وہاں لے گئے۔

اس واقعہ کے پانچ برس بعد چارلس ڈار نے نامی ایک فرانسیسی نوجوان اولڈ ہیلی میں گرفتار کرلیا گیا۔ عدالت میں اس کے خلاف الزام لگایا گیا کہ وہ انگلینڈ کے لئے جاسوسی کرتا تھا۔ ادھر ڈاکٹر مینٹ کا دماغ اب کچھ کچھ ٹھیک ہوگیا تھا کیوں کہ لوسی نے بڑی تندہی سے ان کی خدمت کی تھی۔ ڈاکٹر مینٹ کو ان کی خواہش کے خلاف ڈار نے کے مقدمے میں گواہی دینے کے لئے بلایا گیا۔ ڈار نے وکیل مسٹر سٹرائیور کا ایک اسسٹنٹ تھا۔ سڈنی کارٹن جب مقدمے کا فیصلہ ہونے کی بات آئی تو سڈنی کارٹن نے کہا کہ اس کی شکل ڈارنے کی شکل سے اس درجہ مشابہ ہے کہ پہچاننے میں آسانی سے غلطی ہوسکتی ہے۔ کارتن ایک چاق چوبند آدمی تھا لیکن اس نے اپنی زندگی ک ایک طرح سے بگاڑ لیا تھا۔ رہا ہوجانے کے بعد ڈار نے انگریزوں کو فرانسیسی زبان پڑھانے لگا۔ اس کے والد ایور سے مونڈ کے رئیس تھے لیکن فرانس میں لوگ ان سے شاید نفرت کرتے تھے کیونکہ ایورے مونڈ خاندان اپنی سنگدلی کے لئے مشہور تھا۔ ڈار نے اپنے والو کے پاس جانا پسند نہیں کیا۔ اسے یہی اچھا لگا کہ اپنی روزی خود کمائے اور خود ہی اپنی زندگی بنائے۔

ڈاکٹر مینٹ کا چھوٹا سا مکان سوہو نامی جگہ میں تھا۔ وہ پھر سے اپنی پریکٹس کرنے لگے تھے۔ لیکن اس بات کا ہمیشہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ ان کے دل کو کہیں کوئی صدمہ نہ پہنچ جائے اور وہ پھر سے جوتے بنانے کا کام نہ کرنے لگیں۔ (جیل کے زمانے میں ان سے جو جوتے بنوائے گئے تھے اس کی وجہ سے وہ بالکل خالی الذہن ہوگئے تھے۔ اور اکثر و بیشتر ان پر ایک طرح کا پاگل پن سوار ہوجاتا تھا اور اسی لئے لوسی حد درجہ احتیاط برتتی تھی کہ انہیں کسی طرح کا کوئی صدمہ نہ پہنچنے پائے) اب وکیل سٹرائیور ، کارٹن اور ڈار نے ، تینوں کا ڈاکٹر مینٹ کے یہاں آنا جانا شروع ہوگیا۔ ڈار نے اور کارٹن دونوں لوسی کو اپنا دل دے بیٹھے لیکن لوسی نے ڈار نے کو پسند کیا۔ اس پر کارٹن نے اپنے دل کی بات لوسی کے سامنے کھول کر رکھ دی اور کہا کہ کبھی کبھار اسے بھی اس کے یہاں آنے کی اجازت دے دی جائے اور اس نے کہا” جس آدمی سے تم محبت کرتی ہو، وقت آنے پر اس کی خاطر میں اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔”

فرانس میں بھیانک بغاوت ہونے والی تھی ، مادام وفارج جیسا کہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے ، بڑی خوفناک عورت تھی۔ دیکھنے میں تو وہ اپنے شوہر کی دکان میں بیٹھی اون بنا کرتی تھی لیکن دراصلل وہ ایک رجسٹر رکھا کرتی تھی جس میں وہ عوام پر ظلم ڈھانے والے لوگوں کے نام درج کرتی رہتی تھی۔ اسے ان ظالموں سے بدلہ لینا تھا ، فرانس کی سی حالت انگلینڈ میں نہیں تھی۔ ادھر ڈار نے اورلوسی کی شادی ہوگئی اور ان کے یہاں ایک ننھی سی سنہرے بالوں والی بچی پیدا ہوئی۔ وہ لوگ بڑے مزے سے اپنی زندگی گزاررہے تھے۔

فرانس میں بغاوت ہوگئی اور بادشاہ کا بیٹیل قلعہ توڑ دیا گیا ، مسٹر اور مادام وفارج نے ہجوم کو اکسا کر اس پر حملہ کیا اور فتح پائی۔ تین برس تک فرانس میں خونریزی ہوتی رہی۔ انہیں دنوں ٹیلسن بنک کی برانچ سے مسٹر لوسی کو پیرس بلایا گیا تاکہ وہاں کے ریکارڈوں کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ اسی زمانے میں چارلس ڈار نے بھی پیرس گیا، ایورمونڈے جاگیر سے کافی آمدنی ہوتی تھی اور اس کا ارادہ تھا کہ اس آمدنی کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کرے لیکن حالات بڑے دگر گوں تھے۔ مسٹر لوری پر تو کوئی مصیبت نہیں آئی۔ کیونکہ وہ انگریز تھے ، لیکن چارلس ڈار نے چوں کی فرانس کے اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس لئے اسے گرفتار کرلیا گیا اور جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ وہ ایور مونڈے خاندان کافرد تھا تو اسے جیل کی ایک کال کوٹھری میں بند کردیا گیا۔

اس کی گرفتار ی کی خبر ملتے ہی ڈاکٹر مینٹ لوسی اور اس کی بیچی کے ساتھ پیرس پہنچے وہ خود بیٹیل قلعے میں برسوںقید رہ چکے تھے اس لئے انہیں امید تھی کہ ان کے وہاں پہنچنے کا اچھا اثر ہوگا اور وہ چارلس ڈارے کو رہا کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن وہاں پہنچنے پر انہوں نے دیکھا کہ پورا پیرس میں خون کے پیاسے انقلابیوں کے ہاتھ میں تھا۔ برس ہا برس کے ظلم و تشدد نے ان میں خوفناک ترین جذبہ انتقام بھر دیا تھا۔ رحم و کرم نام کی چیز کو وہ یکسر بھول چکے تھے۔ ڈاکٹر مینٹ کی آمد پر اگرچہ ان کا کافی احترام و استقبال کیا گیا اور انہیں جیل خانے کا ڈاکٹر بھی بنادیا گیا لیکن وہ اپنے داماد کو نہیں چھڑواسکے۔ ایک برس تک ڈار نے اسی کال کوٹھری میں بند رہا۔ اس کے بعد سزاؤں کا وقت آگیا، تاریخ میں یہ زمانہ انتہائی المناک تسلیم کیاجاتا ہے۔ لوسی برابر امید لگائے رہی لیکن اسے اپنے شوہر کو دیکھنے تک کا موقع نہیں ملا۔

بالآخر چالس ڈار نے کو انقلابی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، مادام وفارج عدالت میں آگے کی نشستوں میں سے ایک پر بیٹھی تھی اور اس وقت بھی اون بن رہی تھی اور اس کے چہرے پر ویسی ہی تلخی اور کرختگی تھی جیسی ہمیشہ براجمان رہتی تھی۔ حاضرین نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ڈارنے کو فوراً سزائے موت سنادی جائے لیکن جب ڈارنے نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ہی اپنی فرانس کی جاگیر سے دستبردار ہوگیا تھا کیونکہ اس کے خیالات اس کے خاندان کے ظالم افراد سے نہیں ملتے تھے اور جب اس نے یہ بتایا کہ وہ ڈاکٹر مینٹ کا داماد تھا اور ایک انسان کی جان بچانے کی خاطر ہی فرانس میں آیا تھا تو حاضرین میں سے کچھ ایک کی آوازیں اس کے حق میں اٹھنے لگیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر مینٹ نے بھی لوگوں سے درخواست کی کہ مسٹر ڈارنے کو چھوڑ دیاجائے۔ جیوری کے ممبران نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور بالآخر عدالت نے مسٹر ڈارنے کو باعزت بری کردیا۔ ڈاکٹر مینٹ اور لوسی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا لیکن اس وقت پیرس کے عجیب و غریب حالات کی وجہ سے ان لوگوں کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہاں سے فوراً انگلینڈ چلے جائیں۔۔ چند دن بعد ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی اور ڈارنے کو دوبارہ گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔

مادام وفارج کے جذبۂ انتقام میں کوئی کمی نہیں آئی تھی بلکہ ڈارنے کی رہائی کے بعد وہ اور بھی شدید ہوگیا تھا۔ وہ ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی تھی جس کے پورے گھرانے کو ایور ے مونڈ گھرانے نے بری بربریت سے تباہ کردیا تھا اور اسی لئے مادام وفارج کا سینہ سلگ رہا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ ایورے مونڈ کاندان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے اور اس کے اسی جذبہ انتقام کی وجہ سے ڈارنے کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر مینٹ کو جو اتنی لمبی سز اہوئی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایورے مونڈ خاندان کے وحشیانہ مظالم کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی تھی جب مادام وفارجج کی بہن سے ایورے مونڈ خاندان کے ایک فرد نے زنا بالجبر کیا تھا۔ یوں ایک طرح سے ڈاکٹر مینٹ مادام وفارج پر احسان کرچکے تھے لیکن مادام وفارج اس وقت کسی بھی احسان کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ ایورے مونڈ خاندان کا قلع قمع چاہتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ لوسی کی بچی کو بھی ختم کروادینا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر مینٹ بخوبی واقف تھے کہ ڈارنے کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن اس کے لئے ایک طرح سے انہوں نے اسے معاف کردیا تھا اور اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی تھی اور جہاں تک ڈارنے کا سوال تھا خود اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کے خاندان نے اس کے سسر پر کس قدر ظلم کئے تھے۔

اگلے دن عدالت میں مادام وفارج نے ایک خط پیش کیا۔ ڈاکٹر مینٹ نے یہ خط بیٹیل میں لکھ کر چھپا دیا تھا۔ اس میں انہوں نے اپنے جیل جانے کی کہانی لکھی تھی اور پورے ایورے مونڈ خاندان کے تئیں اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے بددعا دی تھی۔ اس بار عدالت میں کسی نے بھی رحم کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ جیوری نے فوراً اپنی رائے دے دی۔ اور عدالت کی طرف سے یہ سزا سنادی گئی کہ چوبیس گھنٹیے کے اندر اندر چالس ڈارنے کو موت کے گھاٹ اتار دیاجائے۔

ادھر سڈنی کارٹن اپنے دوستوں سے ملنے کے لئے حال ہی میں پیرس آیا تھا، اسے چارلس ڈارنے کے پھر سے گرفتار ہونے کی خبر ملی اور وہ وہاں کے اس انگریز افسر سے ملا جو انقلابیوں کے مقبوضہ جیل خانے میں جاسوسی کا کام کرتا تھا (سڈنی کارٹن کو اس بات کا پتہ چل گیا تھا) اس نے اس افسر کو دھمکایا کہ وہ اسے چارلس ڈارنے کی کوٹھری میں پہنچادے ورنہ وہ اس کا راز فاش کردے گا مجبوراً اس انگریز کواس کی بات ماننا پڑی۔اس کے بعد سڈنی کارٹن نے مسٹر لوری کو کچھ باتیں سمجھائیں اور لودی کو الوداعی بوسہ دیا۔ لوسی اس وقت بے ہوش پڑی تھی۔

عنقریب چارلس ڈارنے کو گلوٹین پر چڑھایاجانے والا تھا کہ سڈنی کارٹن جیل کی کال کوٹھری میں اس کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ وہاں کارٹن کے مجبور کرنے پر ڈارنے نے اس کے کپڑے خود پہن لئے اور اپنے کپڑے اسے دے دئے ، پھر کارٹن نے ڈارنے کو اپنا آخری پیغام دیا اور اسے زبردستی بے ہوشی کی دوا پلادی۔ جب ڈارنے بے ہوش ہوگیا تو اسے جیل خانے کے چوکیدار باہر لے گئے اور اسے باہر لے جاتے ہوئے وہ برابر اس بات پر ہنستے رہے کہ یہ انگریز جو ابھی چارلس ڈارنے سے ملنے آیا تھا کتنا کمزور دل تھا۔ یہ اسے دیکھ کر بے ہوش ہوگیا۔ ان میں سے کوئی بھی یہ بات نہ جان سکا کہ اس وقت کال کوٹھڑی میں چارلس ڈارنے کے بجائے سڈنی کارٹن قید تھا۔

جس وقت چارلس ڈارنے کو لے کرکر گاڑی جیل خانے سے نکلی، مسٹر لولوی اپنے کاغذات، بوڑھے مینٹ ،لوسی اور اس کی بچی کے ساتھ پیرس سے باہر جارہے تھے مادام وفارج کے ذہن میں ایک بات آئی۔ اس نے چاہا کہ چارلس ڈارنے کی بیوی کو بھی ڈھونڈ لیاجائے ، لوسی کی ملازمہ وہاں موجود تھی ، اس نے اس بات کو چھپانے کی کوشش کی کہ اس کی مالکن وہاں سے بھاگ چکی تھی۔ مادام وفارج نے مکان میں گھسنے کی کوشش کی اور پستول نکال لیا اور پھر وہ اپنے ہی پستول سے گھائل ہوکر جان بحق تسلیم ہوگئی۔

مجرموں کو گلوٹین پر چڑھایاجانے لگا اور ان کے سر کٹ کٹ کر گرنے لگے انتقامی جذبہ سے سرشار عورتیں وہاں موجود تھیں لیکن آج ان میں مادام وفاج نہیں تھی۔ ایک گاڑی میں ایک مسکراتا ہوا نوجوان آیا اور اس کے ساتھ ہی کئی آوازیں ابھریں۔۔

“نمبر تئیس”! چارلس ڈارنے کی جگہ سڈنی کارٹن گلوٹین پر جا کھڑا ہوا۔ کوئی بھی اسے نہیں پہچان سکا۔ اس کی زبان سے نکلا:

” آج تک میں نے جو کچھ کیا ہے ، اس سب سے اچھا کام میں اب کررہا ہوں۔ آج تک میں نے جو کچھ جانا بوجھا ہے اس سب سے زیادہ اطمینان مجھے اسی سلسلے میں ملے گا۔”

اور کچھ ہی دیر بعد گلوٹین کا پھل نیچے گرا اور سڈنی کارٹن کی گردن کٹ کر پرے جاگری۔ اس وقت چارلس ڈارنے اپنے کنبے کے لوگوں کے ساتھ فرانس سے باہر نکل چکا تھا۔

Source: https://www.taemeernews.com/2021/11/charles-dickens-a-tale-of-two-cities-urdu.html

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *