کم عمر بچوں میں موبائل فون کے منفی اثرات اور بچنے کی تدابیر

کم عمر بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ آج کے کم عمر بچوں کی تمام سرگرمیوں کا موبائل فون پر بہت زیادہ دارومدار ہے۔ موبائل فون کے مزید فیچرز متعارف ہونے سے کم عمر بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات بڑھ رہے ہیں۔ آئیے درج ذیل فہرست کو دیکھتے ہیں، جس میں کم عمر بچوں پر اسمارٹ فونز کے مضر اثرات کا ذکر ہے۔ ان نقصانات کے ساتھ ساتھ ہم نے کچھ حفاظتی تدابیر بھی فراہم کی ہیں جن کا استعمال ان منفی اثرات سے بچنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

ا س میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون ایک آسان ٹول ہے۔ یہ ساتھیوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رابطے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ لیکن ہر ٹیکنالوجی جو اس طرح کے فوائد فراہم کرتی ہے منفی اثرات کے ایک سیٹ کے ساتھ آتی ہے۔ کم عمر بچوں اور معاشرے پر موبائل فون کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔

یہ  زندگی کا وہ حصہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جب آپ اپنے کم عمر بچوں کو سیل فون دیتے ہیں تو یہ سیل فون کم عمر بچوں کو کیسے متاثر کرسکتے ہیں۔ کم عمر بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات کچھ اس طرح سے ہوسکتے ہیں۔

جسمانی مسائل

موبائل فون نیلی روشنی خارج کرتا ہے، اور  مستقل استعمال بچوں کی آنکھوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نیلی روشنی نقصان دہ تابکاری ہے، جو آنکھوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچاتی ہے۔ آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کے بچوں کی آنکھیں سرخ ہیں، وہ اپنی آنکھیں رگڑتے رہتے ہیں، یا وہ دھندلا نظر آنے کی شکایت کر سکتے ہیں۔ بدترین صورت میں، وہ آنکھوں کو مستقل طور پر زخمی کر سکتے ہیں۔آنکھوں سے متعلق کسی بھی قسم کے مسائل کے لیۓ ماہر امراض چشم سے رابطہ کرنے کے لیۓ یہاں کلک کریں۔

اس کے علاوہ جوڑوں کے درد، گردن میں درد اور سر درد سے متعلق مسائل بہت عام ہیں۔ یہ بچوں پر موبائل فون کا پہلا نقصان دہ اثر ہے۔ جوڑوں اور پٹھوں سے متعلق کسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں بہترین اور مستند ماہرین سے رجوع یہاں سے کریں۔

زیادہ ٹیکسٹ یا میسج ٹائپنگ ٹینڈونائٹس کا باعث بن سکتی ہے۔ جس میں اعصاب اور پٹھوں کا کھنچاؤ شامل ہے۔ غلط طریقے سے موبائل پکڑنے کی وجہ سے یہ ہاتھوں، کمر اور گردن میں درد کا باعث بنتا ہے۔ پانچ سالہ مطالعے کے مطابق، سیل فون کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں بازو اور انگوٹھے میں ٹینڈونائٹس اور فرسٹ کارپومیٹا کارپل آرتھرائٹس یعنی پٹھوں، اعصاب،  جوڑوں، کارٹلیج اور ریڑھ کی ہڈی کی خرابی جیسے عضلاتی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ عضلاتی امراض کی علامات کی صورت میں مستند اور قابل بھروسہ ماہرین سے رجوع یہاں سے کریں۔

دماغی صحت کے مسائل

موبائل فون کا مسلسل استعمال کم عمر بچوں کے رویے میں آسانی سے واضح تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ کم عمر بچے تناؤ کا شکار ہونے لگیں گے اور ہر چیز کے بارے میں فکر مند محسوس کریں گے۔ موڈ میں تبدیلیاں بھی اکثر ہو سکتی ہیں۔ آپ بہت عام چیزوں کے ساتھ ان کی بے صبری کو محسوس کر سکتے ہیں۔

مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ جو کم عمر بچے اپنے موبائل فون کے ساتھ اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ تناؤ، اضطراب اور افسردگی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ سیل فون کی لت پیغامات کو چیک کرنے اور فوری جواب دینے کے جنون میں بدل سکتی ہے۔ یہ وہم پیدا کر کے بے چینی کو بھی بڑھا سکتا ہے کہ انہیں کوئی میسج نہ ہونے کے باوجود میسج موصول ہوا ہے، جس سے وہ اکثر اپنے فون چیک کرتے رہتے ہیں۔

 اگر آپ تناؤ، اضطراب کی علامات بچوں میں محسوس کرتے ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹرسے رابطہ کریں تاکہ بدتر حالات سے بچا جا سکے۔ اس سلسلے میں بہترین اور مستندماہر ین کی خدمات حاصل کرنے کے لیۓ یہاں سے رجوع کریں۔

بے راہ روی کی طرف رغبت

سیل فونز میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت نے کم عمر بچوں کے لیے کسی بھی معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود تقریبا نوے فیصد مواد کا تعلق عریانیت اور فحاشی سے ہے۔ یہاں تک کہ اگر بچے فعال طور پر تلاش نہیں کرتے ہیں، تو بعض اوقات نامناسب مواد خود بخود موبائل اسکرین پر ظاہر ہوجائے گا۔ اس سے وہ ایک خیالی دنیا میں رہنے اور غلط وقار پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ کچھ کم عمر بچےاپنیخواہشوں کی تکمیل کے لیے جرائم کا سہارا بھی لے سکتے ہیں۔

کم عمر بچوں کے لیے سیل فون کے محفوظ استعمال سے متعلق نکات

آپ کو اپنےکم عمر بچوں کو موبائل فون کی حفاظت اور اسے ذمہ داری سے استعمال کرنے کے بارے میں سکھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے موبائل فون کے استعمال کے لیے حدود کی بھی ضرورت ہے۔ نوجوانوں پر سیل فون کے مضر اثرات سے بچنے کے کچھ طریقے یہ ہیں۔

میسیجنگ کا فوری جواب دینے کے ان کے جذبے کو روکیں۔ نیند کا باقاعدہ شیڈول برقرار رکھنے کے لیے ان سے سونے سے پہلے اپنا سیل فون بند کروائیں۔ اپنے نوعمر بچوں کو سکھائیں کہ سیل فون پر مختصر سی گفتگو کسی حد تک برے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ خود اپنے سیل فون کے استعمال کو محدود کر کے ایک اچھی مثال قائم کریں، کیونکہ بچے والدین سے زیادہ چیزوں کی نقل کرتے ہیں یا سیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بچے کو سمجھائیں کہ وہ پارٹیز یا شادیوں کے دوران اپنے سیل فون کو دور رکھے۔

آپ کے بچے روزانہ کچھ وقت جسمانی سرگرمیوں جیسے دوڑنا، کھیلنا یا چہل قدمی میں گزاریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اس طرح کی سرگرمیاں کرتے وقت اپنے موبائل فون کو دور رکھیں۔

اگر آپ اپنے بچوں کو انٹرنیٹ پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کے لیے آئی کی مانیٹرایپ انسٹال اور ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ آپ کو کالز، ٹیکسٹ میسجز، ویب سائٹس، فوٹوز، چیٹ ایپس وغیرہ کی نگرانی کرنے کے قابل بناتا ہے۔

Source: https://www.marham.pk/healthblog/bacho-me-mobile-fone-k-manfi-asrat/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *